ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک اسمبلی میں انسداد تبدیلی مذہب بل پیش ،ایجنڈا کے بغیر بل پیش ہونے پر اپوزیشن کا ہنگامہ،شیوکمار نے بل کو پھاڑ دیا

کرناٹک اسمبلی میں انسداد تبدیلی مذہب بل پیش ،ایجنڈا کے بغیر بل پیش ہونے پر اپوزیشن کا ہنگامہ،شیوکمار نے بل کو پھاڑ دیا

Wed, 22 Dec 2021 10:58:04    S.O. News Service

بنگلورو،22؍دسمبر(ایس او  نیوز)کرناٹک میں بی جے پی حکومت نے اپنے ہندوتوا ایجنڈا پر عمل جاری رکھتے ہوئے منگل کے روز ریاستی اسمبلی میں انسداد تبدیلی مذہب بل کافی جلد بازی میں پیش کردیا- حالانکہ ایوان کی کارروائیوں کے لئے تیارشدہ ایجنڈ ا میں اس بل کو پیش کرنے کا موضوع نہیں تھا، اس کے باوجود اپنی سابقہ روایت کوبرقرار کھتے ہوئے حکومت نے ایجنڈا کے بغیر ہی ایوان زیریں میں متنازعہ بل پیش کیا - اپوزیشن کانگریس اور جنتادل (ایس) کے اراکین کی شدید مزاحمت کے باوجود وزیرداخلہ ارگا گیانیندرا نے یہ بل پیش کیا اور اسے پاس کرنے کے لئے ایوان کے اراکین سے گزارش کی- کانگریس کی طرف سے سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے اس بل کو ایجنڈاکے بغیر ایوان میں لانے کی کوشش کی سخت مخالفت کی - اپوزیشن ممبران نے مسودے کی کاپیوں کو پھاڑ کر اپنے شدید غم وغصہ کا مظاہرہ کیا-

اجلاس کی کارروائی جب شروع ہوئی تو وزیر داخلہ ارگا گیانیندراکو اسمبلی اسپیکر وشویشور ہیگڑے کاگیری نے بل پیش کرنے کی ہدایت دی جس کے ںعد ارگا جب کرناٹکا تحفظ حق مذہبی آزادی بل پیش کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو سدارامیا اور دیگر اپوزیشن ممبروں نے اس پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ بغیر ایجنڈا کے کیسے اس بل کو ایوان میں پیش کیا جا سکتا ہے-اپوزیشن کے ہنگامہ کی پرواہ کئے بغیر ہی وزیر داخلہ نے ایوان میں اس بل کو پیش کردیا - بل پیش ہونے پر احتجاج کرتے ہوئے سدارامیا نے ایوان میں اس بل پر بحث کروانے کی پرزور مانگ کی جس کو اسپیکر نے منظور کرلیااور چہارشنبہ کے روزاس پر بحث کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی جس کے بعد اپوزیشن نے بل پیش کرنے کے طریقہ کار پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا -اسی دوران ایوان میں کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار نے اس متنازعہ بل کی کاپی پھاڑ کر پھینک دی -

متنازعہ بل کی جھلکیاں

  • . جبراً، دھوکہ سے، لالچ دلاکر یا شادی کاوعدہ کر کے مذہب بدلنے پر پابندی ہو گی
  • کسی نے اگر اپنے سابقہ مذہب کو دوبارہ اختیارکرلیا تو اس کو ضابطہ کے مطابق تبدیلی مذہب نہیں مانا جائے گا
  • . مذہب بدلنے والے کے خلاف اس کے والدین، بھائی  بہن، دوست، ساتھ میں کام کرنے والے شکایت درج کروا سکتے ہیں
  • . جبراً مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے تو اس کے لئے تین سال سے پانچ سال کی قید اور25000روپے تک کا جرمانہ
  • . نابالغ بچوں، خواتین، درج فہرست ذاتوں، قبائل سے وابستہ افراد کا مذہب اگر جبراً یا لالچ کے عوض بدلا جائے گا تو اس کے لئے سزائے قید دس سال کی ہو گی اور جرمانہ 50ہزار روپے ہو گا-
  • . اسی جرم کو اگر دہرایا جاتا ہے تو قید پانچ سال اور جرمانہ 2لاکھ روپے ہوگا-
  • . صرف شادی کے لئے اگر مذہب بدلا جائے گا تو ایسی شادی کو غیر قانونی قرا ر دینے کا عدالت کو اختیار-
  • . جبراً یا لالچ کی بناء پرمذہب تبدیل کروانا غیر ضمانتی جرم ہو گا
  • . خالص مذہب بدلنے کے مقصد سے اگر کوئی پہل کرے تو اس کو درخواست متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر یا اڈیشنل کمشنر کو 60دن پہلے فارم نمبر -1کی شکل میں دینی ہو گی-
  • . جس شخص کی طرف سے مذہب بدلنے کی کارروائی انجام دی جائے گی اس کی طرف سے فارم نمبر -2کی شکل میں درخواست کم از کم 30دنوں کے اندر جمع کروانی ہو گی-
  • . اس سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر یا تحصیلدار کے دفتر میں نوٹس بورڈ پر درخواست چسپاں کروانی ہوگی
  • . اگر اس میں کسی طرح کی کوتاہی کی نشاندہی ہوئی تو ڈپٹی کمشنر یا تحصیلدار متعلقہ درخواست دہندہ کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتے ہیں -
  • . جو شخص اپنا مذہب بدل رہا ہے اس کو اپنے پہلے مذہب، اپنائے جا رہے مذہب اور دیگر تمام تفصیلات ڈپٹی کمشنر کو فراہم کرنی ہوں گی
  • .جو شخص مذہب بدلنا چاہے اس کو مذہب بدلنے کے لئے درخواست دینے کے 20دن کے اندر ڈپٹی کمشنر کے روبرو حاضر ہو کر اپنی شناخت کی تصدیق کروانی ہو گی اور حلف نامہ جمع کروانا ہو گا-
  • . مذہب کی تبدیلی جبراً یا لالچ کے عوض نہیں ہو رہی ہے یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری درخواست گزار پر ہو گی
  • . جبراً تبدیلی مذہب کے جرم میں ساتھ دینے والے فرد کو بھی مجرم ہی مانا جائے گا-

Share: